ساحل مكران

میر چاکر رندبلوچ (حاکم بلوچستان در قرن شانزدهم)

هانی و شیخ مرید

از قدیم الایام در بلوچستان مرسوم بوده است که دختران و پسران از سنین کودکی یا خردسالی نامزد یگدیگر می شوند. چه بسا اتفاق می افتد که بدین منظور ناف دختری را برای پسری می برند. د راین ارتباط حتی اصطلاحی در بلوچستان هست که گفته می شود(( ناف فلان دختر را برای فلان پسر بریده اند.)) دختر و پسری که بدین صورت در سنین کودکی نامزد شوند، نمی توانند در سن بلوغ همسر دیگری انتخاب کنند. مطابق این رسم هانی دختر مَندو از کودکی نامزد شیخ مرید پسر پسر شیخ مبارک است. مندو که به او مندوست هم گفته شده ،در زمان حکومت میر چاکر خان فرماندار ایالت کلات در بلوچستان پاکستان بوده است.وقتی شیخ مرید به سن بلوغ می رسد جوانی است برومند واز تمام جوانان زمان خود نیرومند تر- به حدی نیرومند که از کمان او ،از فرط سنگینی ، جز خودش دیگری قدر به رها کردن تیر نیست. هانی نیز در سن بلوغ ، چه از لحاظ وجاهت و چه آشنایی به امور خانه داری، بین دختران طوایف بلوچ زمان خود سرآمد و یکتا است. شیخ مرید که مطابق رسومات بلوچی ، به علت نامزدی با هانی حق هم بازی شدن با او را در سنین کودکی ندارد با آگاهی از زیبایی محسنات اخلاقی شیفته و فریفته ی او می مشود. اما قبل از این که این دو با هم ازدواج کنند میر چاکر خان که پس از فوت پدرش شَیهَک سرداری طائفه رند را به عهده دارد ، با دیدن هانی و با وجود اطلاع قبلی از نامزدی هانی و شیخ مرید ،به او دل می بازد. ولی با توجه به این که گسستن نامزدی این دو امکان پذیر نیست، از این رو در صدد چاره اندیشی بر آمده نقشه ای که می تواند هدف او را تحقق بخشد طرح ریزی می کند. این نقشه بهره گیری از قول بلوچی است در یکی از مجالس بزم که همه سران طائفه و شیخ مرید حضور دارند، میر چاکر خان از حاضرین می خواهد به میمنت این مجلس با شکوه هر یک از آنها قول بلوچی ادا کنند. در این زمینه خود او پیش قدم شده دو قول بلوچی اظهار می دارد: یکی این که هیچ کس در جنگ پشت او را نخواهد دید و دیگر اینکه به هیچ کس وبه هیچ عنوان دروغ نخواهد گفت. دیگران نیز هر کدام به نوبت قول های ذیل را ادا می کنند. قول هیبتان فرزند بیبگر:هرگاه شتری با گله شتران من بیا می زد ، آن شتر را از آن هر کس باشد،تصاحب خواهد کرد. قول جارو فرزند جَلَب : هر کس دستش به محاسن من برسد ، او را زنده نخواهم گذاشت. و بالا خره قول شیخ مرید: صبح پنجشنبه پس از نماز فجر ، هر کس چیزی از من بخواهد بدون تامل به او خواهم بخشید. پس از اتمام مجلس ، میر چاکر خان با خوشحالی فراوان درصدد انجام نقشه ی از قبل طراحی شده ی خود برمی آید. بدین منظوریکی از بهترین ناقه های خود را به گله ی هیبتان رها می کند و او را از دست می دهد. جارو سر تنها کودک خود را ، به علت اینکه به محاسنش دست برده از تن جدا می کند؛ بدون آنکه به توطئه ی میرچاکر واقف باشد. صبح پنج شنبه پس از نماز فجر ، میرچاکر عده ای لانگو را که طائفه ای از نوازندگان وخوانندگان در بلوچستان به شمار می آیند به مسجد نزد شیخ مرید می فرستد تا از او بخواهند که هانی به عقد میر چاکر درآید. شیخ مرید گرچه به توطئه میرچاکر خان مظنون بوده است مع الهذا به علت قول بلوچی که داده است، ناگریز با تقاضای آنان موافقت می کند. ولی پس از این موافقت مشاعر و سلامت خود را از دست میدهد

و به حالت جنون روی آور می شود. هانی گرچه به عقد میر چاکر خان درمی‌آید، اما آنچنان گرفتار عشق شیخ مرید است که در تمام عمر خود پیوسته لباس سیاه می پوشد، هیچ گاه آرایش نمی کند، از مقاربت با میرچاکرخان امتناع می ورزد و همچنان باکره می ماند. همه ی مساعی میرچاکر از قبیل اهدای البسه گرانقیمت، زیورآلات طلا و جواهرات به منظور رام کردن هانی بلااثر میماند:(( دل چیزی نیست که بتوان آنرا مهار کرد و هرجا مانند شتر آنرا هدایت نمود. عشق را نمی توان به بهای سیم و زر خرید.)) در این میان روزبه روز جنون شیخ مرید شدت میابد وبلا خره به مسلک درویشی می پیوندد و سپس به مکه عزیمت ودرآنجا بیش از 30سال اقامت می کند . شیخ مرید، پس از این مدت طولانی ، همراه گروهی از زوار مکه و درویشان به شهر ودیار خویش بر می گردد( در طول این سال ها ، میرچاکرخان چشم از جهان فروبسته است.) هیچ یک از اهالی او را نمی شناسد، تا اینکه در یک مسابقه تیروکمان ، شیخ مرید از کمان مخصوص خود که اهالی شهر به عنوان یادبودی از او در معرض نمایش گذارده اند و به علت فرط سنگینی هیچ فردی جز او قادر به پرتاب تیر از آن نیست ، به سهولت تیری رها می کند . صدای پرتاب تیر به گوش هانی و به گفته ای به گوش پدر و مادر شیخ مرید که هنوز در قید حیات هستند می رسد و آنها را متوجه ورود او به شهر می کند. اما قبل از اینکه بتوانند به او دست رسی یابند، شیخ مرید شهر را ترک می گوید و پس از آن هیچ خبر و اثری از خود به جا نمی گذارد. داستان شیخ مرید وهانی از رویدادهایی است که در نیمه دوم دهم هجری قمری اتفاق افتاده است  

دانشور

بزنجو بلوچ قبیلہ

بزنجو بلوچ قبیلہ : یہ قبیلہ رند بلوچوں کا ایک حصہ ہے۔ جب میر چاکر رند سبی اور کچھی کے علاقوں کی طرف آیا تو یہ قبیلہ مینگلوں کے ساتھ نال اور جھل جھاو کے علاقوں میں جھالاوان کے پہاڑوں میں ہی رہ گیا۔بزنجو قبیلہ کے بعض گرہ مثلاً عمرانی ،سیاہ پاد ، نندانی، زہرانی، بردانی، کے ناموں کی یکسانیت اور بعض دوسرے بلوچ گرہوں کی موجودگی کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بنیادی طور پر یہ ایک ہی بلوچ قبیلہ تھا۔ جب یہ قبیلہ جھالاوان کے علاقہ میں رہائش پزیر تھا ۔ تو اس نے بروہی کو ثانوی زبان کی حیثیت سے اپنایا۔ ___ میر غوث بخش بزنجو

  • شجرہ بزنجو قبیلہ
alt text
    • حملانی
    • تمرانی
    • عمرانی
    • سیاپاد (کالاپاوں )
    • نندوانی
    • کنگنزئی
    • بدوزئی
    • نوتھانی
    • گھرال
    • گزوزئی
    • زہروانی
    • بروانی
    • غیبیزئی
    • بوہرانی
    • ساسولی
    • گورانزئی

رند بلوچ

رند بلوچ : رند دور جو 1430ءسے 1600ءتک کے عرصے پر محیط ہے۔ خوانین کا دور جس کی مدت 1600ءسے 1850ءتک ہے۔ برطانوی دور جو 1850ءسے شروع ہوا اور اگست 1947ءمیں تمام ہوا۔ بلوچوں میں رندوں کے تعارف کے متعلق ضرورت نہیں۔ کیونکہ میر جلال ہان رند کی سر کرد گی میں بلوچونکے چوالیس مختلف قبیلے سیستان سے مکران آئے تھے۔ اور وہاں سے وہ بلوچستان سندھ پنجاب اور گجرات میں پھیل گئے۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ میر چاکر کے زمانے تک جب تک یہ منظم رہے من حیث الکل بلوچوں کی سرداری رندوں میں رہی۔ لاشارئیوں سے تیس سالہ جنگ کے بعد اور پھر پنجاب میں دودھائیوں سے لڑائی کے بعد بلوچوں کی تنظیم منتشر ہوگئی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سرداری بھی تقسیم ہو کر رہ گئی۔ اور ہر قبیلے نے نیم خود مختارانہ حیثیت حاصل کر لی ۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں قبیلے کی کمزوری کی وجہ سے رندوں کی سرداری منقسم ہوگئی۔ جب میر بجار پژ رند پنجاب میں میر چاکر سے علیحدہ ہوا اور دودائی قبیلہ سے لڑائی شروع کی تو اس نے اپنے آپ کو رندوں کا بادشاہ کہلوایا۔ میر چاکر رند اور بلو چوں کے دوسرے مشہور رہنما سب کے سب رندوں کے پژ گروہ سے متعلق تھے۔ غرض اس طرح بلوچوں میںقبائلیت اور علیحدگی کی ابتداءہوئی۔ بلوچوں میں یہ عام دستور سا ہوگیاہے۔ کہ ان میں سے ہر ایک قبیلہ رند ہونے کا دعویٰ کرتاہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا رند ہونے سے متعلق کوئی تعلق نہیں۔ رندوں کی شمشیر زنی کی شہرت اور اس قبیلے میں عظیم شخصیتوں اور ہستیوں کی موجودگی کی وجہ سے اس قبیلے سے اپنے آپ کو متعلق کر دینا یقیناً قابل عزت بات ہے۔ تقریاً آدھے رند پنجاب میں مقیم ہیں۔ان کے آباو اجداد میر چاکر رند کے ساتھ وہاں گئے تھے۔ میر چاکر رند نے وہیں ضلع ساہیوال میںانتقال کیا اور وہیں دفن ہوئے۔ بہر حال رندوں کی ایک خاص تعداد نے میر چاکر رند سے علیحدہ ہو کر میر بجار کو اپنا سردار مان لیا۔میر بجار نے پنجاب میں دودائیوں کے خلاف بہت سی لڑائیاں لڑیں۔ اور اس کے بعد وہ سندھ سے ہوتا ہوا بلوچستان واپس آگیا۔ اس کے بہت سے پیروکار اور ساتھیوں نے ڈیرہ غازیخان سندھ اور بلوچستان میں سکونت اختیار کرلی اور اپنے آپ کو مختلف ناموں سے موسوم کیا۔ لیکن وہ ہمیشہ اپنے رند ہونے پر فخر کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں۔


[ترمیم] شجرہ رند قبیلہ

میر چاکر رند
  • رندبلوچ
    • آزادی
    • بادینی
    • بجارانی
    • بزدار
    • نتکانی
    • چاکرانی
    • دان گن زئی
    • اسحاق زئی
    • بھولو زئی
    • چھلگری
    • چولانی
    • دیناری
    • پیرو زئی
    • گبول
    • گادئی (سراٹی)
    • گدری
    • غلام بولدک
      • عالیانی
      • چولیانی
      • عسبانی
      • خیانی
      • مندانی
      • گورشیانی
      • گور گیثر
      • گرزئی
      • ہڈدار
      • ہوتان زئی
      • اندارا
      • عیسیانی
      • جمالی
      • سرائی
      • چامرا
      • جلگاری
      • مودارانی
      • نیوری دن
    • جتوئی
      • براہمانی
      • بولانی
      • حاجیان زئی
      • جمالانی
      • کھور زئی
      • پیروزانی
      • شیہہ
    • کھہیر
    • کلوانی
    • کرموزئی
    • کھوسہ
      • کھوسہ
      • بکھرانی
      • گنانی
      • ساکھانی
      • شاسانی
      • عمرانی
    • کلوئی
    • کولاچی
    • کولانک
    • کچک
      • چوٹئی
      • سیاہ پاد
      • جلمبانی
    • لیغاری
    • لاشاری
    • لنڈ
    • مسوری
    • مغیری
    • مراد خیل
    • ناہر
    • لاکھی زئی
    • نوشیروانی
    • نندوانی
    • پیندازئی
    • فردکانی
    • پیتافی
    • پھگ **
      • جوگی
    • پھژ
    • راہیجہ
      • بادیازئی
      • ساہاکانی
      • سنانی
      • سیکانی
      • شارکانی
      • شابیاکانی
    • راہوجا
    • رخسنی
    • رامی زئی
    • روزی
    • رستمانی
    • سوہریانی
      • بازر زئی
      • حاجن زئی
      • نندوانی
    • سرخی
    • شاہیجہ
    • شر
    • سندرانی

‏*‏‏**‏کریمزائی ‏*‏‏*‏شہہ‏ ‏*‏‏*‏حسنی و حسینی ‏*‏‏*‏دھانی ‏*‏‏*‏آشاری

مینگل بلوچ قبیلہ

مینگل بلوچ قبیلہ: بلوچستان کا بہت بڑا اور مشہور قبیلہ ہے ۔ یہ قبیلہ تین جتھوں شاہی زئی ، ذگر، اور سمالانی پر مشتمل ہے۔ شاہی زئی مینگل جھا لا وان کی پہاڑوں میں وڈ کے مقام پر رہتے ہیں۔ ذگر مینگل ضلع چاغی میں رہائش پزیر ہیں ۔ اور سمالانی خانہ بدوش ہیں۔ کچھی خاران اور چاغی کے ضلعوں میں نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں مینگل رند بلوچوں کی ایک شاخ ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جب میر چاکر اور اس کے ساتھی رندوں نے قلات کو فتح کیا تھا تو مینگل اس کی فوج کا باقا ئدہ حصہ تھے۔ اور جب میر چاکر کو قلات سے نکلنا پڑا تو مینگل اور دوسرے بلوچ قلات ہی میں رہ گئے۔ لیکن جب بجار میروانی بروہی نے قلات پر قبضہ کرلیااور میر چاکر کے مقرر کردہ گورنر کو وہاں سے نکال دیا یا قتل کردیا ۔ تو مینگلوں نے اس نئے بروہی حکومت کے ساتھ صلح کر لی اور بزور شمشیر بزنجو قبیلہ سے وڈ اور وہیر کے علاقے چھین لئے ۔ مینگل قلات کے جھالاوان علا قہ کا ایک بڑا قبیلہ اور بزنجو قبیلہ کا پڑوسی ہے۔ اور اس کے مختلف گروہ مثلاً لہڑی، عمرانی ، حمل زئی ، بارانزئی، گورانی، اور احمدانزئی، کے ناموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچوں کے بعض دوسرے بڑے بڑے قبیلوں کی طرح یہ بھی بہت سے بلوچ قبیلوں کا جتھا ہے۔ اس قبیلے کی زبر دست اکثریت جھالاوان کی پہاڑیوں میں عرصہ دراز سے رہنے کی وجہ سے اب عموماًبروہی زبان بولتے ہیں۔

شجرہ مینگل بلوچ قبیلہ

  • مینگل
    • پہلوان زئی
    • حمل زئی
    • بالازئی
    • تراسيزئی
    • گمشاد زئی
    • داردزئی
    • حسن زئی
    • شادمان زئی
    • دولت خان زئی
    • دینار زئی
    • میر جائی
    • باران زئی
    • رئیسانی
    • عمرانی
    • لہڑی
    • گورانی
    • شیخ بننزا
    • غلامانی
    • احمدان زئی
    • افغ علی زئی
    • علی زئی
    • محمد زئی
    • ابابکی

مری بلوچ قبیلہ

مری بلوچ قبیلہ: یہ قبیلہ بلوچ قبائل میں سب سے بڑا اور اہم قبیلہ ہے۔ یہ قبیلہ رند کا ایک حصہ ہے۔ اس قبیلے کا بانی میر پیروشاہ کا بیٹا میر بجار پژ رند تھا۔ میر پیروشاہ ، میر ببرک ، ریحان اور دوسرے رند سورماوں کے ساتھ تلی کے مقام پر رندوں اور لاشاریوں کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ کچھ عرصہ تک یہ قبیلہ بجارانی کے نام سے مشہور رہا اور میر بجار اور اس کی اولاد اس کے سرداررہے۔ سوراب دودائی اور اس کے بیٹوں سے کئی جنگوں کے بعد اور اپنے رشتہ دار لیکن مخالف میر چاکر رند سے اختلاف ارئے کی بنیاد پر میر بجار رند اپنے پیرووں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ پنجاب سے واپسی کے بعد سبی پر حملہ کرنے کے لئے آیا لیکن وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بہر حال اس نے بلیدیوں کو شکست دینے اور شہر بدر کرنے کے بعد کاہان کوفتح کرلیااور موجودہ مری قبیلہ کی بنیاد ڈالی۔ بعد میں دوسرے کچھ بلوچ گروہ کے لوگ بھی اس قبیلہ میں شامل ہوگئے اور بلآخیر یہ مری مشہور ہوگئے۔ اس قبیلے کے تین بڑے حصے بجارانی گزینی اور لوہارانی ہیں۔ موخر الزکر قبیلہ نسبتاًچھوٹا ہے۔ میر بجر رند کا انتقال تقریباً 1560ء میں ہوا۔ اور انہیں بجارانی کے علاقہ ماوند کے جنوب میں تقریباً بیس میل دور بجار روڈ (بجار پہاڑی) میں دفن کیا گیا۔ اس کی اولاد اپنے ساتھیوں کے ساتھ شمال مشرقی حصے کی طرف آئی۔ اور پٹھانوں سے موجودہ کوہلو تحصیل اور دوسرے علاقے فتح کر لیئے۔ اور وہاں دو گاوں کرم خان اور خدائیداد خان آباد ہو گئے۔ بلوچ قبائل میں مری سب سے سرکش قبیلہ ہے۔ انہوں نے 1839ء ہی میں بر طانوی حکومت کے زیر اثر آتے ہی اس کے خلاف مسلح بغاوت شروع کر دی تھی۔ انہوں نے لارڈ کین کی فوجوں کو بہت پریشان کیا جب وہ 1839ء میں درہ بولان کے راستے افغا نستان جا رہی تھیں۔ برطانوی حکومت نے ان کے خلاف ایک فوج روانہ کی اور اس فوج نے 1840ء میں کا ہان پر قبضہ بھی کر لیا۔ اور انہیں محاصرے میں لے کیا گیا۔ اس کے بعد میجر بلیو مور کی سربرائی میں لائٹ بمبئی گرینڈ ئیرزکے 564 سنگین بردار سپاہی اور پونا ہارس اور سند ھ ہارس کی تین توپیں اور دو سو سوار روانہ کیئے گئے ۔ کاہان کے قریب درہ نفسک پر مری قبائل سے مقابلہ ہوا۔ دست بہ دست لڑائی کے بعد مری فتح یاب ہوئے۔ 1845 ء میں کیپٹن جیکب لکھتا ہے۔ مریوں نے کچھی کے علاقے کو روند ڈالاہے۔ گھروں سے نکلے ہوئے لوگ در بدر پھر رہے ہیں۔ سارا علاقہ تقریباٍ برباد ہوگیاہے۔ قلات کی حکومت اس علاقہ کے لیئے کچھ بھی نہیں کر سکتی ۔ 1859ء میں اور پھر 1862ء میں خان قلات خدائیداد خان نے انگریزوں کی مدد سے آٹھ ہزار سپائیوں اور توپوں کے ساتھ مریوں پر حملہ کیا لیکن خان صاحب کی فوج کو شکست ہوگئی۔ جب مسٹر سنڈیمن کو اس علاقہ میں تعینات کیا گیا تو حالات نے پلٹا ، اس نے ڈیرہ غازیخان کے قبائل لیغاری اور مزاری وغیرہ کی خمات حاصل کیں۔ اس طرح علاقہ میں امن قائم ہوا۔ اس نے 1876ء میں مستونگ میں خان قلات سے ایک عہد نامہ کیا جو سیاسی طور پر سخت نقصان دہ تھا۔ اس کے باوجود مری اور بگٹی اپنے علاقوں میں نیم خود مختار رہے۔

شجرہ مری بلوچ قبیلہ

alt text
  • مری
    • بجارانی
      • بہالان زئی
      • قلندرانی
      • باران زئی
      • قیصرانی
      • سالار زئی
      • سومرانی
      • شاھیجہ
      • کلوانی
      • رامکانی
      • پوادی
      • کنگرانی
    • گزینی
      • بھاولانزئی
      • عیبانی
      • مر گیانی
      • حیر وار
      • نوز بند گانی
      • چوری
      • بہکا نی
      • لوڑی کش
      • بڈانی
      • مزارانی
      • مہدانی
      • چھلگری
      • ژنگ
      • لانگھانی
      • آلیا نی یا عالیانی
      • مزارانی
    • لوہارانی
      • مہمندانی
      • جنگ وانی
      • شیرانی
      • میلو ہر
      • سارنگانی
      • جنڈوانی
      • درکانی

[ترمیم] حوالہ جات

  • نسب نامہ جہریج (قبائل سندھ) 1936ء
  • تاریخ دودائی
  • تاریخ کرد
  • تاریخ طبرایٰ
  • بلوچستان تاریخ کے آئینے میں

دھانی

دھانی بلوچ قوم کا ایک بہت بڑا طایفہ ھے جو کہ پاکستان اور ایرانی بلوچستان بڑی تعداد میںرھائش پذیر ہیں در واقع یہ طایفہ بلوچوںکے عظیم شاخ"رند" سے تعلق رکھتا ہے اور انکا پدرامجد "میر بوہیر خان ہیں جو شیر محمد خان رند کے بیٹے ہیں کہ در اصل سنی شوران کے رہنے والے تہے اور 1784 میں یہ لوگ سنی شوران میں آباد تھے جو کہ بعد میں براستہ نوشکی و دالبندین ہجرت کر کے پنجگور کے علاقے سے ہوتا ہوا موجودہ ایرانی بلوچستان کے علاقے" دیھان" میںرھائش اختیار کی اور وہاں کے پورے تمام علاقوں میںحکمرانی کی جن میں سیب، سوران، کنت، مولتان، ناکپہن، گرناگان،مینان اور مورتان شامل تھے و بعد از آن سردار بوہیر بہ سبب مقام رھائش بہ دیھان "دھانی" مشہور ہوئے اور اس طایفے کے دیگر معروف سرداروں میں سردار بهادین سردار رشید دھانی، سردار ملک بیک دھانی، سردار تاج محمد دھانی، سردار ھمل دھانی، سردار یار محمد دھانی اور سردار رحیم بخش دھانی(موجودہ) شامل ہیں . شجره دهانیان میر شیر محمد>میر بوهیر>میر جلب>میر افضل>میر مزار>میر بهادین>میر همل>سردار رشید>سردار ملکبیک و سردار تاج محمد>سردار همل و سدار یار محمد>سردار رحیم بخش و سردار مرادبخش(موجوده).

مینگل بلوچ قبیلہ

مینگل بلوچ قبیلہ: بلوچستان کا بہت بڑا اور مشہور قبیلہ ہے ۔ یہ قبیلہ تین جتھوں شاہی زئی ، ذگر، اور سمالانی پر مشتمل ہے۔ شاہی زئی مینگل جھا لا وان کی پہاڑوں میں وڈ کے مقام پر رہتے ہیں۔ ذگر مینگل ضلع چاغی میں رہائش پزیر ہیں ۔ اور سمالانی خانہ بدوش ہیں۔ کچھی خاران اور چاغی کے ضلعوں میں نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں مینگل رند بلوچوں کی ایک شاخ ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جب میر چاکر اور اس کے ساتھی رندوں نے قلات کو فتح کیا تھا تو مینگل اس کی فوج کا باقا ئدہ حصہ تھے۔ اور جب میر چاکر کو قلات سے نکلنا پڑا تو مینگل اور دوسرے بلوچ قلات ہی میں رہ گئے۔ لیکن جب بجار میروانی بروہی نے قلات پر قبضہ کرلیااور میر چاکر کے مقرر کردہ گورنر کو وہاں سے نکال دیا یا قتل کردیا ۔ تو مینگلوں نے اس نئے بروہی حکومت کے ساتھ صلح کر لی اور بزور شمشیر بزنجو قبیلہ سے وڈ اور وہیر کے علاقے چھین لئے ۔ مینگل قلات کے جھالاوان علا قہ کا ایک بڑا قبیلہ اور بزنجو قبیلہ کا پڑوسی ہے۔ اور اس کے مختلف گروہ مثلاً لہڑی، عمرانی ، حمل زئی ، بارانزئی، گورانی، اور احمدانزئی، کے ناموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچوں کے بعض دوسرے بڑے بڑے قبیلوں کی طرح یہ بھی بہت سے بلوچ قبیلوں کا جتھا ہے۔ اس قبیلے کی زبر دست اکثریت جھالاوان کی پہاڑیوں میں عرصہ دراز سے رہنے کی وجہ سے اب عموماًبروہی زبان بولتے ہیں۔

وجه تسمیه بلوچستان

از بلوچستان در کتاب‌های تاریخ به نام مکران یاد می‌شده‌است. بلوچ اسم قوم و ستان به معنی جا و مکان است. در معجم البلدان حدود اربعه ی مکران که در اصطلاح تاریخ جدید بلوچستان نامیده می‌شود چنین نوشته شده است.

"هذه الولایة بین کرمان من غربیها، و سجستان شمالیها و البحر جنوبیا و الهند فی شرقیها[نیازمند منبع]"
"این ولایت در میان کرمان از جانب غرب و سیستان از جانب شمال و دریا از سمت جنوب و هندوستان از طرف شرق قرار دارد[نیازمند منبع]"

پس از نفوذ انگلیس‌ها، مورخی دیگر برای تکمیل معجم البلداندو جلد دیگر (جلد ۹ و جلد ۱۰) را به آن اضافه کرد. او در صفحه ۱۴۵ از جلد دهم حدود بلوچستان را بدین قرار ثبت کرده است:

"بلوچستان سرزمینی از بلاد آسیا است در شمال آن افغانستان، در شرق سند، در جنوب اقیانوس هند، و در غرب بلاد فارس قرار دارند."

صاحبمعجم البلدان می نویسد: "مورخان نوشته اند که مکران را بدین وجه مکران می گویند که در آن مُکران بن فارک بن سام بن نوح، برادر کرمان، رحل اقامت افکند و آن جا را وطن خویش قرار داد. و این واقعه زمانی رخ داد که زبان‌های مختلف در بابل از یکدیگر جدا و مستقل شدند."[نیازمند منبع]

در کتاب جغرافیای خلافت مشرقی (صفحه ۴۹۴) تحت عنوان استان مکران نوشته شده است:

"ازعمده‌ترین محصولات کشاورزی مکران شکر بود و یک نوع شکر سفید که عرب‌ها به آن فانیذ می گفتند، در همین جا تهیه و به مقیاس زیاد به ممالک همجوار صادر می شد."[نیازمند منبع]

مهم‌ترین مرکز تجاری مکران بندرتیس در ساحل خلیج فارس و پایتخت آن فنزبور و یا پنجگور بود. بنابه گفته مقدسی در قرن چهارم هجری در بنجبور (پنجگور) یک قلعه قدیمی وجود داشت که دور تا دور آن خندق حفر کرده بودند. در چهار طرف شهر نخلستان بود و شهر دارای دو دوازه بود. یکی دروازه ی تیس که به جانب جنوب غربی باز می‌باشد و از آن جاده ای به سوی بندر خلیج فارس، یعنی تیس کشیده شده بود. دیگری دروازه ی طوران که به سمت شمال شرقی گشوده می شد و از آن جاده ای به بلاد طوران منتهی می گشت و مرکز توران قزدار (خضدار) بود. آب شهر به وسیله کانالی تامین می شد.